Categories: Urdu Literature

by sangemeel

Share

Categories: Urdu Literature

by sangemeel

Share

Corona aur Adab. Dr. Nasir Abbas Nayyar. Sang-e-meel

Corona aur Adab Mein Wabaaon ki Numaaindagi – Yeh Qissa Kya Hai Maani Ka – Dr. Nasir Abbas Nayyar

کورونا اور ادب میں وباؤں کی نمائندگی

ہم نے یہ دیکھا کہ وبا کے دنوں میں قارئین کی دل چسپی وباسے متعلق لکھے گئے ادب سے بڑھ گئی۔ دراصل ہم ایک نئی قسم کی نفسی و داخلی صورتِ حال کی زد پر آئے۔ہماری سماجی زندگی ختم ہوکر رہ گئی۔ہم اپنے گیجٹس کے ساتھ گھروں اور گھروں کے کونوں میں سمٹ کر رہ گئے۔ ہم نے ایک طرف طویل فرصت، تنہائی اوربوریت کا سامنا کیا ، دوسری طرف خودکو اور اپنے پیاروں کے کھونے کاحقیقی خوف ہمارے دلوں میں بیٹھ گیا۔کئی لوگوں نے واقعی اپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے کھویا بھی ۔اردو ادب کتنی ہی ممتاز ہستیوں سے محروم ہوگیا۔ یہاں تک کہ دنیا کے خاتمے سے متعلق بھی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ یہ صورتِ حال ، نفسی ووجودی سطح پر بحرانی تھی ،جس نے ہمیں وبا پرلکھے ہوئے ادب کی طرف متوجہ کیا ۔ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس سے پہلے وباؤں کو ادب نے کس طور ، کس ڈھنگ ، کس تناظر میں پیش کیا ہے ؟تب وبا کی طرف لوگوں کے رویے کیا تھے؟ جس دہشت انگیز صورتِ حال کا سامنا ہم اب کررہے ہیں ،پہلوں نے اس کا سامنا کیوں کر کیا ؟ چناں چہ وبا سے متعلق عالمی اور مقامی ناول خاص طور پر پڑھے گئے اور ان پر کچھ لکھا بھی گیا۔وبا کے دنوں میں جن عالمی ناولوں کو مسلسل پڑھا گیا ،ان میں ڈینئل ڈیفو کا

A journal of the Plague Year (۱۷۲۲ء)

، میری شیلے کا ناول

The Last Man (۱۸۲۶ء)

، جیک لنڈن کا

The Scarlet Plague (۱۹۱۵ء)

، کیتھرین این پورٹر کا

Pale Rider, Pale Horse (۱۹۳۹ء)

، کامیو کا

The Plaguee (۱۹۴۷ء)

اور گیبرئیل گارشیا مارکیز کا’’وبا کے دنوں میں محبت‘‘(۱۹۸۵ء)۔ کم سٹینلے رابنسن کا

The Years of Rice and Salt (۲۰۰۲ء)

اور دیگر متعدد ناول شامل ہیں ۔وبا سے متعلق مغربی ناولوں میں وبا کے دنوں میں انفرادی ،سماجی اورحکومتی رویوں کی نقشہ کشی کی گئی ہے ۔انھیں پڑھتے ہوئے

Illness as Metaphor

کی مصنفہ سوسن سونٹاگ کی یہ بات بار بار یاد آتی ہے کہ بیماری ،استعارہ بنتی ہے۔بیماری کو سزایا سازش سمجھنا بھی اسے استعاراتی حدود میں لے جاناہے۔ یعنی اسے اخلاقی ، مابعد الطبیعیاتی اور سیاسی معانی کا حامل ثابت کرنا ہے۔ یہ موضو ع وبا سے متعلق اردو ادب میں بھی ملتا ہے ، مگروبا سے متعلق مغربی فکشن کی ایک خصوصیت ایسی ہے جو اسی سے مخصوص ہے۔ وہ یہ کہ وبا سے متعلق اکثر ناول ڈسٹوپیائی ہیں۔ ان میں دنیا کے خاتمے کی فنتاسی ملتی ہے۔ان میں محض انتہائی حقیر وائرس کے ہاتھوں دنیا کی مکمل تباہی کا خوف ہی کارفرما نہیں بلکہ جدید تہذیب سے متعلق ان یوٹوپیائی تصورات کو ردّ کرنے کی کوشش بھی ہے جو اس تہذیب کے تضادات پر پردہ ڈالتے ہیں۔ مارکیز کا ناول قدرے مختلف ہے ۔اس میں اگرچہ دنیا کے خاتمے کا تصور نہیں مگر وبا اور بیماری کے استعارتی معانی اس میں بھی ہیں۔ ڈاکٹر اربینو مغربی جدیدیت کا نمائندہ ہے جس نے ہیضے کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے؛ وہ اس امر کا استعاراتی نمائندہ ہے کہ مغربی جدیدیت اور سائنس ہی وباؤں کے خاتمے میں مئوثر ہے۔ نیز خود ہیضے کو بیماری اور اس پر جوش محبت کے معانی میں لیا گیا ہے جو فرمینا اور فلورینٹیو میں ان کے بڑھاپے میں بھی برقرار رہتی ہے۔

Corona aur Adab. Dr. Nasir Abbas Nayyar. Sang-e-meel

An excerpt from Dr. Nasir Abbas Nayyar’s Book “Yeh Qissa Kya Hai Maani Ka”

 

Related Posts

View More
  • Continue Reading
  • Continue Reading
  • Continue Reading
  • Continue Reading