Categories: Essays

by sangemeel

Share

Categories: Essays

by sangemeel

Share

zaavia ka naam - ashfaq ahmad - sang-e-meel publications

Ashfaq Ahmed sahab talks about why the name Zaavia was chosen for his iconic program. Zaavia ka Naam Akhir Zaavia kyun?

خواتین و حضرات !یہ ڈیرے، یہ خانقاہیں یا جن کو تکیے کہہ لیں، یہ اسی مقصد کے لیے ہوتے ہیں کہ دل کا بوجھ جو آدمی سے خود اٹھائے نہیں اٹھتا، وہ ان کے پاس لے جائے۔ اور ’’بابے‘‘ کے پاس جا کر آسانی سے سمجھ میں آنے کے لیے عرض کرے۔ فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں کوئی سائیکی ایٹ رسٹ (Psychiatrist)بیٹھا ہو، لیکن وہ فیس نہ لے ‘یا سائیکالوجسٹ ہو جس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پر لٹا کر Analysisکرتے ہیں، بلکہ بچھانے کے لیے صف ہو۔ اس پر ایسا سامان ہوکہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں۔ تو ان ڈیروں کو‘ ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں‘ الجزائر میں‘تیونس میں ’’زاویے‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’’زاویہ‘‘ کہتے ہیں۔ کچھ ’’رباط‘‘ بھی کہتے ہیں وہاں پر، لیکن زاویہ زیادہ مستعمل ہے۔ حیران کن بات ہے‘ باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسمِ ظرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ رہنے کے لیے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لیے روٹی، پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے۔ دکھی لوگ آتے تھے۔ اپنا دکھ بیان کرتے تھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! جو سائیکالوجسٹ کہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے۔ نقل بمطاق اصل ہے لیکن سپرٹ(روح) اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعت کا بوجھ، جو اور پروگراموں میں اور کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا، وہ کسی طور پر یہاں دور ہو سکے۔

 آپ جب بھی کسی ڈیرے پر، کسی بزرگ سے ملنے کے لیے جائیں گے تو آپ کے لاشعور میں ٹیسٹ کا ایک مِیٹر(Meter) ضرور ہوگا۔ میں دیکھوں، یہ کیسا آدمی ہے؟ آپ اکثر یہ کہہ کر چلے آتے ہیں کہ یار وہاں گئے تھے، وہ توکچھ نہیں ہے۔ اپنے معیار کے ساتھ آدمی چیک کرتا ہے، لیکن جب آپ پوری طلب کے ساتھ، امتحان پاس کرنے کا انداز اختیار کیے ہوئے جائیں تو پھر آپ کو ان خاکستروں میں سے عجیب قسم کے لعل مل جاتے ہیں۔ مشکل تو ہوگی کہ وہاں سندھ چلے جائیں۔ تھرپارکر کے ڈیزرٹ میں چلے جائیں یا روہی میں چلے جائیں۔ کچھ نہ کچھ آپ کو دانش کی بات مل جائے گی۔ دانش کی بات جو ہے، یہ ایسے ہی لوگوں سے ملتی ہے، کتابوں سے نہیں ملتی۔

 تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ زاویہ، باوجود اس کے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے لیکن اس کی خوبی  اس کی سپرٹ ویسی ہی رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

 سپرٹ سے یاد آیا کہ اورنگزیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اس نے کہا: ’’باوجود اس کے کہ آپ رنگ و رامش، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں، شہنشاہِ معظم! لیکن میں فن کار ہوں اور ایک فن کار کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر  ُہوا  ُہوں اور میں بہروپیا  ُہوں۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا  ُہوں کہ شہنشاہِ معظم‘ جن کو اپنے تبحر ِعلمی پر بڑا ناز ہے، دھوکا دے سکتا ہوں، اور میں غچہّ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں۔

 اورنگ زیب عالمگیر نے کہا: ’’یہ بات توضیعِ اوقات ہے۔ میں تو شکار کو بھی کارِ بیکار سمجھتا ہوں۔ یہ تم جو چیز میرے پاس لائے ہو، اس کو میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ ‘‘

اس نے کہا:’’ نہیں صاحب ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔آپ اتنے بڑے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جوا ب نہیں رکھتے۔ میں بھیس بدلوں گا، آپ پہچان کر دکھایئے۔‘‘

 تو انہوں نے کہا: ’’منظور ہے۔‘‘ 

اس نے کہا: ’’حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو میں آپ کا دینے دار  ُہوں۔ لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور میں نے ایسا بھیس بدلا تو میں آپ سے پانچ سو روپیہ لوں گا۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت پانچ سو بہت ہوںگے۔ شہنشاہ نے کہا:’’ ٹھیک ہے۔ پانچ سو میرے لیے کچھ نہیں ہے، منظور ہے، جائو۔ ‘‘تو وہ شرط طے کرکے چلا گیا اور پھر سوچنے لگا۔ گھر جا کر بھی پریشان ہوا کہ میں شیخی میں ایسی شرط بد کر آگیا ہوں۔ میں کون سا ایسا روپ بدلوں کہ بادشاہ کو پتا نہ چلے۔ پھرتا پھراتا تحقیق و تفتیش کرتا رہا۔ لوگوں سے پتا چلا اورنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا میں مرہٹوں پر اور بہمنی سلطنتوں پر اکثر حملے کیا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا، یہ سال چھوڑ کر اگلے سال پھر ان پر حملہ کرے گا۔ یہ خبر بہروپیے کو جو وقائع نگار تھے، انہوں نے بتائی۔ اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ چنانچہ وہ یہاں سے پا پیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا جہاں بہمنی سلطنت تھی۔ وہاں جا کر اس نے ایک بزرگ کا روپ دھارا۔ ڈاڑھی بڑھا لی۔ سبز کپڑے پہن لیے۔ بڑے بڑے منکے گلے میں ڈال لیے، اور اللہ کی یاد میں ایسا مستغرق ہوا کہ بڑی دیر تک بہت دور تک لوگوں کو اپنے اس سحر میں مبتلا کرتا رہا۔ ارد گرد کے لوگ جو تھے، بابا پیر کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔ لوگ آنے لگے اور طرح طرح کے چڑھاوے چڑھانے لگے۔جیسا کہ ہمارے یہاں کا رواج ہے۔ دور دور تک اس کا نام آنے لگا۔ لیکن وہ بڑی استقامت کے ساتھ سال بھر اس ریاضت میں مصروف رہا جو بزرگ کیا کرتے ہیں۔ 

 ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر اورنگ زیب عالمگیر سائوتھ انڈیا پہنچا اور پڑاؤ ڈالا تو تھوڑا سا وہ خوف زدہ تھا۔ اور جب اس نے مرہٹوں کے پیشوا پر حملہ کیا تو وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے کہ اس کی فوجیں توڑ نہ سکیں۔ پریشانی کا عالم ہو گیا اور یقین ہو گیا کہ شاید اس کو ناکام لوٹنا پڑے اور اس کی حکومت پر  ُبرا اثر پڑے۔ چنانچہ لوگوں نے کہا ، یہاں ایک درویش ولی اللہ رہتے ہیں درخت کے نیچے۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے جا کر ڈسکس کریں۔ پھر دعا کریں اور پھر ٹوٹ پڑیں۔ شہنشاہ پریشان تھا، بے چارہ بھاگا بھاگا گیا اُن کے پاس۔ سلام کیا۔ اورکہا:’’ حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا…‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہم فقیر آدمی ہیں۔ ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا۔‘‘ شہنشاہ نے کہا:’’ نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے (جیسے انسان بہانے کیا کرتا ہے) آپ ہماری مدد کریں۔ میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو فقیر نے فرمایا: ’’نہیں کل مت کریں، پرسوں کریں اور پرسوں بعد نمازِ ظہر۔‘‘ اورنگ زیب نے کہا جی بہت اچھا۔ چنانچہ اس نے بعد نمازِ ظہر جو حملہ کیا اور ایسے زور کا کیا اور جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی، اور ایسی دعا کہ وہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی۔ مفتوح جو تھے وہ پاؤں پڑ گئے۔ بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔باوجود کہ وہ ٹوپیاں سی کے اور قرآن لکھ کر گزارا کرتا تھا لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے۔ اس نے جا کر عمامہ اتارا اور کھڑا ہو گیا۔ دست بستہ کہ حضور یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہوا ہے۔

 اس نے کہا:’’ نہیں جو کچھ کیا اللہ نے کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں حضور۔ درویش نے کہا: ’’نہیں ہم فقیر لوگ ہیں۔ ‘‘اس نے کہا کہ دو پرگنے کی معافی دو بڑے قصبے۔اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں۔ وہ ان کو دیتا ہوں اور زمین اور آئندہ پانچ سات پشتوں کے لیے ہر طرح کی معافی ہے۔ 

 اس نے کہا: ’’بابا یہ ہمارے کس کام کی ہیں ساری چیزیں۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں۔ تیری بڑی مہربانی۔‘‘ اورنگ زیب نے بڑا زور لگایا،لیکن وہ نہیں مانا اور بادشاہ مایوس ہو کے واپس آگیا۔ اس نے اپنے تخت کے اوپر متمکن ہو کر ایک نیا فرمان جاری کیا۔ جب شہنشاہ فرمان جاری کر رہا تھا، عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا۔ شہنشاہ نے کہا:

’’ حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے۔ آپ مجھے حکم دیتے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔‘‘کندن نے کہا: نہیں شہنشاہِ معظم !اب یہ ہمارا فرض تھا، ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے‘ تو جنابِ عالی میں کندن بہروپیا ہوں۔ میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں۔‘‘

 اس نے کہا: تم وہ ہو؟ اس نے کہا، ہاں وہی ہوں جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کرکے گیا تھا۔ 

اورنگ زیب نے کہا: ’’مجھے پانچ سو روپیہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں، جب میں نے آپ کو دو پرگنے اور دو قصبے کی معافی دی۔ جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی۔ جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ اس میری مملکت میں جہاں چاہیں جس طرح چاہیں رہیں۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا۔ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں۔‘‘ 

اس نے کہا: ’’حضور بات یہ ہے جن کا روپ دھارا تھا، ان کی عزت مقصود تھی۔ وہ سچے لوگ ہیں۔ ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ یہ میں نہیں کر سکتا تھا کہ روپ سچوں کا دھاروں اور پھر بے ایمانی کروں۔‘‘ 

تو خواتین و حضرات !میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہمارا یہ زاویہ دونمبرہی سہی، بے شک بہروپ ہی سہی، تو آپ دعا کریں۔ اس میں کچھ ایسی باتیں، کچھ ایسے مسئلے، کچھ ایسی پیچیدگیاں، کچھ ایسے بوجھ دور ہوتے رہیں جو کسی اور طرح سے نہیں ہو پاتے۔

zaavia by ashfaq ahmad - sang-e-meel publications

Excerpt taken from the book “Zaavia” by Ashfaq Ahmad 

Related Posts

View More
  • Continue Reading
  • Continue Reading
  • Continue Reading
  • Continue Reading